
اٹھارویں صدی کے اورنگ آباد میں، ایک نوجوان پر صوفیانہ جذب اور مستی اس قدر طاری ہوتی ہے کہ اسے سات سال تک بیڑیوں میں رکھا جاتا ہے۔ اپنے پیر عبدالرحمٰن چشتی سے بیعت کرنے کے بعد، وہ چند ہی برسوں میں وہ شاعری تخلیق کرتا ہے جو عمر بھر کی محنت معلوم ہوتی ہے—اور پھر پیر کے حکم پر اسے ہمیشہ کے لیے ترک کر دیتا ہے۔
یہ دیوان اسی مختصر دور کی غزلوں کا مجموعہ ہے۔ ان میں عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی کے درمیان کوئی لکیر نہیں کھینچی گئی۔ "خبرِ تحیرِ عشق سن" اور "ہر طرف یار کا تماشا ہے" جیسے کلام میں دکنی زبان اور فارسی اثرات یکجا ہیں۔ یہ غزلیں ہجر کے بوجھ، محبوب کی بے وفائی، اور حسنِ بے مثال کے براہِ راست بیانات ہیں۔
مغل دور اور دکن کے پس منظر میں مرتب ہونے والا یہ مجموعہ اٹھارویں صدی کے کلاسیکی اردو ادب کی ایک بنیادی کڑی ہے۔